
بسم اللہ الرحمٰنِ الرحیم
گھڑی
کی ٹک ٹک محض عصر رواں کی ایک ساتھ گزرنے کا اعلان نہیں۔ بلکہ اس ایک ٹک کے اندر
ناجانے کتنے راز و واقعات پوشیدہ ہوتے ہیں۔ ان رازوں اور واقعات سے آگاہی ہر ذی
شعور کی جبلی ضرورت ہے۔ ہر شخص صبح جوں ہی بیدار ہوتا ہے تو اس کی پہلی خواہش یہ
ہوتی ہے کہ وہ جان پائے کہ نیند کے دوران کیا کیا واقعات رونما ہوئے ہیں اور یہ
خواہش صحافی پوری کرتا ہے۔اسی لئے صحافی کو معاشرے کی آنکھ قرار دیا گیا ہے۔
صحافی
محض واقعات کو رپورٹ ہی نہیں کرتا بلکہ وہ اس کے اسباب و علل کا کھوج لگا کر تجزیہ
کرتا ہے کہ ہماری معیشت، معاشرت، سیاست اور اجتماعی شعور پر اس کے کیا اثرات مرتب
ہوں گے۔ یوں وہ محض رپورٹر ہی نہیں رہتا بلکہ ایک دانا حکیم کی طرح مسائل، ان کی
تشخیص اور نشاندہی کے بعد معیشت اور معاشرت پر مرتب ہونے والے مضر اثرات کو حکمران
طبقے پر عیاں کرتا ہے۔ اس طرح اس کا کردار ایک عوامی ترجمان کی صورت اختیار کر
جاتا ہے۔
ہر
انسان چونکہ حالات و واقعات کو اپنے زاویہ نگاہ سے دیکھتا ہے تو اس کا تجزیہ بھی
اپنی ہی سوچ اور منطق سے کرتا ہے۔ جب صحافی حالات وواقعات کو اپنے زاویہ نگاہ سے
پیش کر رہا ہوتا ہے تو لامحالہ وہ ایک رجحان ساز یا ٹرینڈ میکر کا کردار ادا کر
رہا ہوتا ہے۔ لہذا صحافی کسی بھی معاشرے کا ایک نمایاں رجحان ساز بھی ہے۔ اسی رجحان
سازی کے سبب کسی بھی ملک میں ہونے والی حکومت سازی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
المختصر صحافی گاؤں گوٹھ کے چھوٹے چھوٹے مسائل سے لے کر حکومت سازی تک انسانی
زندگی کے ہر ہر پہلو پراثر انداز ہوتا ہے۔ اسی لئے اسے ریاست کا چوتھا اہم ستون
قرار دیا گیا ہے۔
صحافی
اپنے علاقے میں منعقد ہونے والے علاقائی تہواروں، کھیل کود کے میدانوں، ادبی و
علمی سرگرمیوں اور مذہبی جلسے جلوسوں کی کوریج کرتا ہے تو وہ اس وقت اپنے کلچر کو
پرموٹ کررہا ہوتا ہے۔ یوں صحافی کی نظر ہمیں زندگی کے ہر ہر شعبہ میں پیوست نظر
آتی ہے اور وہ زندگی کے ہر ہر شعبہ کا بنظر غائر مطالعہ و مشاہدہ کے بعد پوری دنیا
کو اپنی سماجی زندگی کے سارے رنگ دکھا رہا ہوتا ہے جس سے پوری دنیا کو ہمارے بارے
میں جانکاری ملتی ہے۔