بسم اللہ الرحمٰنِ الرحیم
ریاست
کا انتظام وانصرام حکومت وقت کی ذمہ داری ہوتا ہے۔اس ذمہ داری سے عہدہ برا ہونے کے
لیے اسےلاکھوں کی تعداد میں ملازمین درکار ہوتے ہیں۔جہاں ان ملازمین کا تعلق مختلف
شعبہ جات سے ہوتا ہےوہاں تعلیم ،قابلیت اور بزرگی( (SENIORITYکی
بنیاد پر بھی ان کی درجہ بندی ہوتی ہے ،حکومت اپنی انتطامی اور معاشی لائحہ عمل(POLICYIES) انہی
افراد کے ذریعے عوام پر نافذ کرتی ہے۔لہذا ان کے پاس انتظامی اور معاشی حوالے سےبے
پناہ ا ختیارات آجاتے ہیں جوان مناصب کو بہت زیادہ پر کشش بنادیتے ہیں،جس سے ان
مناصب کے حصول کے لیےدوڑ شروع ہوجاتی ہےاور لوگ اہلیت ونا اہلیت کو پس پشت ڈال
کر،ان کے حصول کے لیے ہر جائز و ناجائز ذریعہ اختیار کرتے ہیں،جس کے نتیجے
میں ان مناصب پرایسے لوگ پہنچ جاتے ہیں جو نااہل ہونے کے ساتھ ساتھ لالچی اور بد
یانت بھی ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے باعث سرکاری دفاترسست روی کے ساتھ ساتھ رشوت
ستانی کا گڑھ بھی بن جاتے ہیں ،جو کہ حکومتوں کے لیے مسلسل درد سر بناہواہے ۔
مندرجہ
بالا وجوہات کے ساتھ ساتھ انسانی زندگی اور معاشرے کی پیچیدگیوں نے بھی حکمرانوں
کو یہ سوچنے پر مجبور کیاکہ تمام ذمہ داریاں اپنے پاس رکھ کر بدنام ہونے سے بہتر
ہےکہ کچھ شعبےـ"نجی شعبہ (Private sector) کے
سپرد کردیے جائیں،تاکہ کام کا بوجھ ہلکا ہوجائے۔اس طرح حکومتی اور نجی شراکت داری(public & private
partnership)کا
تصور پیدا اور مقبول عام ہوا۔اس کے نتیجہ میں کئی شعبے ،نجی شعبہ کے سپرد کر دیے
گئے۔یوں اب نجی شعبہ میں بھی روزگار کے بے شمار مواقع پیدا ہو چکے ہیں۔نجی شعبے
میں مسابقت کی وجہ سےمہارت اور کار کردگی نےانسان کو اہم بنا دیا ہے۔لہذا بہتر
مہارت اور کارکر دگی کی بنیاد پر افرا د کی تنخواہوں اور مراعات میں بھی کافی و
وافی اضا فہ ہواہے،جس کی وجہ سے قابل لوگ نجی شعبہ کو فوقیت دینے لگے
ہیں۔
سر
کاری اور نجی ،ہر دو شعبوں میں موجود افراد معاشرے کے انتہائی باصلاحیت افراد ہیں
۔ریاستی مشنیری اور معاشرہ ان کےدم قدم سے رواں دواں ہے۔حکومت اور ریاست کی
پالیساں اور ان کے ثمرات ان کےذریعے سے عوام تک منتقل ہوتے ہیں ۔گویا کہ ان کا
مقام معاشرے میں ایسا ہے جیسا کہ شریانوں کاانسانی جسم میں۔